وٹامن E کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں
وٹامن E جسم کے لیے ایک ضروری غذائی جزو ہے۔ اس مضمون میں اس کی کمی کی عام علامات، اسے پورا کرنے والی غذائیں اور انہیں کھانے کا درست طریقہ دیا گیا ہے۔
خلیات کو نقصان سے بچانے اور جلد کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
کمی کی علامات
- پٹھوں کی کمزوری
- نظر کا کمزور ہونا
- جلد کا خشک و کھردرا ہونا
کن غذاؤں میں ملتا ہے
| غذا | قانونِ مفرد اعضاء میں گروپ |
|---|---|
| بادام | اعصابی |
| سورج مکھی کے بیج | غدی |
| پالک | عضلاتی، غدی |
| زیتون کا تیل | غدی |
گروپ حکیم صابر رحمۃ اللہ علیہ کی غذائی فہرستوں سے لیا گیا ہے۔ جو غذا ان فہرستوں میں نہیں، اس کے سامنے «—» ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء میں علاج کی غذا مزاج کے اگلے عضو کی ہوتی ہے: اعصابی مزاج میں عضلاتی غذائیں، عضلاتی مزاج میں غدی غذائیں اور غدی مزاج میں اعصابی غذائیں۔
کھانے کا درست طریقہ
یہ بھی چکنائی میں حل ہوتا ہے — زیتون کا تیل یا تھوڑے گھی کے ساتھ لینا بہتر جذب کا باعث بنتا ہے۔
کب ڈاکٹر سے ملیں
یہ علامات کئی دوسری بیماریوں میں بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات دیکھ کر کمی پکی نہیں سمجھنی چاہیے۔ علامات زیادہ دن رہیں یا بڑھتی جائیں تو ڈاکٹر سے ملیں اور خون کا ٹیسٹ کروائیں۔ سپلیمنٹ (گولیاں یا ٹیکے) ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ لیں، کیونکہ کچھ وٹامنز اور معدنیات زیادہ مقدار میں نقصان بھی دیتے ہیں۔
اپنی علامات کے مطابق اندازہ لگانے کے لیے My Herbal PK کا وٹامن و معدنیات کی کمی والا حصہ استعمال کریں۔
جسم میں وٹامن E کا کام
وٹامن E ایک «اینٹی آکسیڈنٹ» ہے، یعنی یہ جسم کے خلیات کی بیرونی جھلی کو اس نقصان سے بچاتا ہے جو جسم کے اندر بننے والے کچھ مادے (فری ریڈیکلز) پہنچاتے ہیں۔ یہ اعصاب اور پٹھوں کے صحیح کام، آنکھ کے پردے کی حفاظت اور مدافعتی نظام کے لیے ضروری ہے۔ یہ بھی چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے۔
کمی کیوں ہوتی ہے
صحت مند انسان میں صرف غذا کی کمی سے وٹامن E کی کمی بہت کم ہوتی ہے، کیونکہ یہ کئی عام غذاؤں میں ملتا ہے۔ زیادہ تر کمی ان لوگوں میں ہوتی ہے جن کا جسم چکنائی ٹھیک سے جذب نہیں کرتا، مثلاً:
- جگر یا پتے کی بیماریاں، جن میں چکنائی ہضم کرنے والا صفرا کم بنتا ہے۔
- لبلبے کی بیماری یا آنتوں کی لمبی بیماریاں جن میں دست رہتے ہوں۔
- وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بہت کم وزن کے بچے۔
- بہت ہی کم چکنائی والی غذا لمبے عرصے تک کھانا۔
لمبی کمی کے اثرات
لمبی کمی میں اعصاب متاثر ہوتے ہیں: ہاتھ پاؤں میں سنسناہٹ، چلنے میں توازن بگڑنا، پٹھوں کی کمزوری اور نظر کی کمزوری۔ یہ علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔
روزانہ کتنی ضرورت ہے
بالغ افراد کو عام طور پر تقریباً 15 ملی گرام روزانہ چاہیے۔ مٹھی بھر (تقریباً 25 دانے) بادام سے ہی اس کا آدھے سے زیادہ حصہ مل جاتا ہے۔ سورج مکھی کے بیج، پالک اور زیتون یا سورج مکھی کا تیل بھی اچھے ذرائع ہیں۔
زیادتی کا نقصان
غذا سے ملنے والا وٹامن E نقصان نہیں دیتا، لیکن زیادہ مقدار کے کیپسول لمبے عرصے تک لینے سے خون پتلا ہو کر بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو پہلے سے خون پتلا کرنے والی دوائیں لیتے ہیں۔ جلد اور بالوں کے لیے وٹامن E کیپسول کا اندرونی استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔
روزمرہ کھانے میں آسان طریقے
- صبح چند بادام بھگو کر کھائیں۔
- سلاد یا سبزی میں تھوڑا زیتون کا تیل استعمال کریں۔
- پالک اور ساگ کو تھوڑی چکنائی کے ساتھ پکائیں تاکہ وٹامن E اور A دونوں جذب ہوں۔
ایک دن کا سادہ نمونہ
یہ صرف ایک مثال ہے کہ عام گھریلو کھانوں سے یہ ضرورت کیسے پوری کی جا سکتی ہے۔ اپنی صحت، بیماری اور مزاج کے مطابق اس میں تبدیلی کریں۔
| وقت | کیا کھائیں |
|---|---|
| ناشتہ | چند بھیگے بادام |
| دوپہر | پالک یا ساگ تھوڑے گھی میں |
| شام | سورج مکھی کے بیج یا مونگ پھلی |
| رات | سلاد پر چند قطرے زیتون کا تیل |
تیل کا انتخاب
کھانا پکانے کے لیے جو تیل استعمال ہوتا ہے وہ بھی وٹامن E کا ذریعہ ہے۔ سورج مکھی اور زیتون کے تیل میں یہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن تیل کو بار بار گرم کرنے یا ایک ہی تیل میں بار بار تلنے سے وٹامن E ضائع ہو جاتا ہے اور نقصان دہ مادے بنتے ہیں۔ اس لیے تلنے والا تیل دوبارہ استعمال نہ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا وٹامن E کے کیپسول جلد پر لگانے سے فائدہ ہوتا ہے؟
کچھ لوگ خشک جلد پر لگاتے ہیں، لیکن ہر جلد کو موافق نہیں آتا اور بعض میں خارش ہو سکتی ہے۔ پہلے تھوڑی سی جگہ پر آزمائیں۔
کیا وٹامن E کی کمی عام ہے؟
صحت مند لوگوں میں کم ہے۔ زیادہ تر ان لوگوں میں ہوتی ہے جن کا جسم چکنائی جذب نہیں کر پاتا۔
بادام کتنے کھائیں؟
عام طور پر دن میں ایک مٹھی (20 سے 25 دانے) کافی ہے۔ زیادہ کھانے سے کیلوریز بڑھتی ہیں۔
کیا وٹامن E بالوں کے گرنے کو روکتا ہے؟
صرف تب مدد کر سکتا ہے جب اس کی کمی ہو، جو صحت مند لوگوں میں کم ہوتی ہے۔ بال گرنے کی اصل وجہ معلوم کرنا زیادہ ضروری ہے۔