عضلاتی غذائیں: مکمل غذائی چارٹ (اعصابی مزاج کے لیے)
عضلاتی غذاؤں میں خشکی کی کیفیت غالب ہوتی ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء کے اصول کے مطابق یہ غذائیں اعصابی مزاج والوں کے علاج کے لیے ہیں: My Herbal PK پر تشخیص میں اعصابی مزاج آئے تو یہی غذائیں دکھائی جاتی ہیں۔ یہ چارٹ حکیم صابر رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب «غذائیں بمطابق قانون مفرد اعضاء» سے لیا گیا ہے۔
عضلاتی غذاؤں کی فہرست
آلو بخارا، آملہ، آملی، انگور، انار، سیب، پان، پپیتا، باجرہ، پیاز، بہیڑہ، ہلیلہ، ٹماٹر، بیر، بینگن، ریحان، چلغوزہ، چنے، چھولے، چھوہارا، پھول گوبھی، مکھانہ، جھینگا، مچھلی، دارچینی، جامن، جو، چائے، خشخاش، دہی، کشمش، کلونجی، سرکہ، لونگ، لہسن، منقی، شکر قندی، بند گوبھی، پالک، سرسوں کا ساگ، میتھی، لسی، فالسہ، کریلا، کچنار۔
صبح کا ناشتہ
بھنے چنے ایک مٹھی، کشمش تیس دانے، سفید تل ایک چمچ اور دو چھوہارے کھا لیں، یا کاجو پانچ دانے اور مونگ پھلی ایک مٹھی خشک خوبانی کے ساتھ، اور ساتھ قہوہ پی لیں۔ گرمیوں میں آملے کا مربہ لے سکتے ہیں۔
دوپہر کا کھانا
کالے چنے، چھولے، مسور، لوبیا اور چنے کی دال؛ گوبھی، کریلے، بینگن؛ ابلے یا گھی میں فرائی انڈے، بھنا ہوا قیمہ، فرائی مچھلی، کباب، تکہ یا قورمہ — ان میں سے کوئی ایک۔ بیسن، مکئی یا باجرے کی روٹی جس میں تین چٹکی کلونجی اور دیسی اجوائن شامل ہو، چٹنی کے ساتھ کھائیں۔ اس کے بعد قہوہ ضرور پیئیں۔ گرمیوں میں لسی پی لیں۔
شام کا کھانا
دوپہر والا سالن روٹی کے ساتھ، یا صبح والا ناشتہ۔ پھلوں میں فالسہ، آڑو، لوکاٹ، کینو، اناناس، ناریل، جامن اور املی استعمال کر سکتے ہیں۔
عضلاتی قہوہ
چائے کی پتی آدھا چمچ، لونگ دو دانے، دارچینی ایک انگلی کے برابر اور لیموں کے چند قطرے — ایک کپ پانی میں ابال کر پیئیں۔
اس چارٹ کو کیسے استعمال کریں
- پہلے اپنا مزاج معلوم کریں۔ My Herbal PK کے ہوم صفحے پر علامات منتخب کر کے اندازہ لگائیں، یا کسی مستند حکیم سے تشخیص کروائیں۔ پھر اصول کے مطابق علاج والا غذائی گروپ چنیں: اعصابی مزاج میں عضلاتی غذائیں، عضلاتی مزاج میں غدی غذائیں اور غدی مزاج میں اعصابی غذائیں۔
- فہرست میں سے وہ غذائیں چنیں جو آپ کو آسانی سے ملتی ہوں اور جن سے کوئی تکلیف نہ ہو۔ پوری فہرست ایک ساتھ کھانا مقصد نہیں۔
- ناشتے، دوپہر اور شام کے کھانے میں دی گئی مثالوں میں سے کوئی ایک چنیں۔ یہ متبادل ہیں، سب ایک ساتھ نہیں۔
- کھانے کے اصول ساتھ اپنائیں: روٹی آدھی، پانی کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے اور دو گھنٹے بعد، اور دو کھانوں کے بیچ کم از کم چھ گھنٹے۔ دیکھیں: کھانے کے سنہری اصول۔
- کچھ دن بعد اپنی علامات دوبارہ دیکھیں۔ اگر علامات بدل گئی ہوں تو مزاج دوبارہ معلوم کریں، کیونکہ علاج والی غذا بھی مزاج کے ساتھ بدلتی ہے۔
عضلاتی غذاؤں کی خصوصیت
عضلاتی غذائیں عام طور پر خشکی پیدا کرنے والی، ترش یا کسیلی اور پروٹین والی ہوتی ہیں: چنے، مسور، لوبیا، بینگن، گوبھی، کریلا، انار، آملہ، جامن، سرکہ، دہی اور لسی جیسی چیزیں۔ قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق یہ غذائیں جسم میں خشکی بڑھاتی ہیں، اس لیے انہیں اعصابی مزاج میں استعمال کیا جاتا ہے، جہاں تری اور بلغم غالب ہو۔ جن میں پہلے ہی خشکی زیادہ ہو (مثلاً سخت قبض، خشک جلد)، وہ انہیں حکیم کے مشورے سے استعمال کریں۔
موسم کے مطابق
گرمیوں میں لسی، فالسہ، جامن، آلو بخارا اور املی آسانی سے ملتے ہیں۔ سردیوں میں چنے، مسور، گوبھی، کریلے اور انار۔ عضلاتی قہوہ (چائے کی پتی، لونگ، دارچینی اور لیموں) کھانے کے بعد پینے کی ہدایت ہے۔
بیماریوں کے ساتھ احتیاط
- شوگر کے مریض: چارٹ میں جلیبی، حلوہ، کھیر، مصری، گلقند، کھجور اور میٹھے مشروبات جیسی چیزیں ہیں۔ شوگر کے مریض میٹھی چیزیں اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ بڑھائیں، اور شکر کی جگہ بغیر میٹھے کے اسی گروپ کی دوسری غذائیں چنیں۔
- بلڈ پریشر اور دل کے مریض: نمک، گھی میں تلی ہوئی چیزیں، سری پائے اور چربی والا گوشت محدود رکھیں۔
- معدے کے زخم اور تیزابیت: تیز مرچ، کچا لہسن، سرکہ اور بہت گرم مصالحے تکلیف بڑھا سکتے ہیں۔
- گردے کے مریض: دالوں، گوشت، کیلے اور خشک میوہ جات کی مقدار ڈاکٹر کے مشورے سے طے کریں۔
- الرجی: جس غذا سے الرجی ہو، وہ چارٹ میں ہونے کے باوجود نہ کھائیں۔
پکانے اور کھانے کے عملی مشورے
- سبزیاں تازہ خریدیں اور پکانے سے ذرا پہلے کاٹیں، تاکہ ان کی غذائیت کم ضائع ہو۔
- ایک وقت میں ایک ہی سالن بنائیں، بہت سی چیزیں ایک ساتھ ملا کر نہ کھائیں۔
- بچا ہوا کھانا بار بار گرم نہ کریں۔ جتنا کھانا ہو اتنا ہی پکائیں۔
- گھی اور تیل کی مقدار اعتدال میں رکھیں، اور ایک ہی تیل بار بار تلنے میں استعمال نہ کریں۔
- پھل کھانے کے فوراً بعد نہیں، دو کھانوں کے بیچ کے وقت میں یا چارٹ میں بتائے گئے وقت پر کھائیں۔
دہی اور لسی
عضلاتی چارٹ میں دہی اور لسی شامل ہیں۔ دہی تازہ ہو اور زیادہ کھٹا نہ ہو۔ لسی میں نمک کم رکھیں، اور سردیوں میں رات کو ٹھنڈی لسی پینے سے بچیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
عضلاتی چارٹ میں روٹی کون سی ہے؟
چارٹ کے مطابق بیسن، مکئی یا باجرے کی روٹی جس میں کلونجی اور اجوائن شامل ہو۔
کیا عضلاتی غذاؤں سے قبض ہو سکتا ہے؟
یہ غذائیں خشکی بڑھاتی ہیں، اس لیے جن کو پہلے ہی خشک قبض ہو وہ احتیاط کریں اور حکیم سے مشورہ کریں۔
عضلاتی قہوہ کب پیئیں؟
دوپہر کے کھانے کے بعد پینے کی ہدایت ہے۔