🏠 Home › 📚 Articles › وٹامن D کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں

وٹامن D کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں

My Herbal PK · 28 اکتوبر 2026

وٹامن D جسم کے لیے ایک ضروری غذائی جزو ہے۔ اس مضمون میں اس کی کمی کی عام علامات، اسے پورا کرنے والی غذائیں اور انہیں کھانے کا درست طریقہ دیا گیا ہے۔

ہڈیوں میں کیلشیم جذب کرنے اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔

کمی کی علامات

کن غذاؤں میں ملتا ہے

غذاقانونِ مفرد اعضاء میں گروپ
دھوپ میں روزانہ کچھ دیر بیٹھنا—
انڈے کی زردی—
مچھلیعضلاتی
دودھاعصابی
مکھن—

گروپ حکیم صابر رحمۃ اللہ علیہ کی غذائی فہرستوں سے لیا گیا ہے۔ جو غذا ان فہرستوں میں نہیں، اس کے سامنے «—» ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء میں علاج کی غذا مزاج کے اگلے عضو کی ہوتی ہے: اعصابی مزاج میں عضلاتی غذائیں، عضلاتی مزاج میں غدی غذائیں اور غدی مزاج میں اعصابی غذائیں۔

کھانے کا درست طریقہ

یہ بھی چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے — مچھلی، انڈے کی زردی وغیرہ کسی سالن یا تیل کے ساتھ کھائیں تاکہ جذب بہتر ہو۔

کب ڈاکٹر سے ملیں

یہ علامات کئی دوسری بیماریوں میں بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات دیکھ کر کمی پکی نہیں سمجھنی چاہیے۔ علامات زیادہ دن رہیں یا بڑھتی جائیں تو ڈاکٹر سے ملیں اور خون کا ٹیسٹ کروائیں۔ سپلیمنٹ (گولیاں یا ٹیکے) ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ لیں، کیونکہ کچھ وٹامنز اور معدنیات زیادہ مقدار میں نقصان بھی دیتے ہیں۔

اپنی علامات کے مطابق اندازہ لگانے کے لیے My Herbal PK کا وٹامن و معدنیات کی کمی والا حصہ استعمال کریں۔

جسم میں وٹامن D کا کام

وٹامن D کا سب سے اہم کام آنتوں سے کیلشیم اور فاسفورس کو جذب کروانا ہے۔ اس کے بغیر غذا میں کیلشیم کافی ہونے کے باوجود ہڈیوں تک نہیں پہنچتا۔ نتیجہ یہ کہ بچوں میں ہڈیاں نرم ہو کر ٹیڑھی ہو جاتی ہیں (رکٹس)، اور بڑوں میں ہڈیاں کمزور اور دردناک ہو جاتی ہیں۔ یہ پٹھوں کی طاقت اور مدافعتی نظام کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس وٹامن کی خاص بات یہ ہے کہ جلد پر دھوپ پڑنے سے جسم اسے خود بناتا ہے، اسی لیے اسے «دھوپ کا وٹامن» کہا جاتا ہے۔

دھوپ والے ملک میں بھی کمی کیوں؟

پاکستان میں دھوپ بہت ہے، پھر بھی وٹامن D کی کمی بہت عام ہے۔ اس کی وجوہات یہ ہیں:

دھوپ کیسے لیں

عام طور پر ہفتے میں کئی دن، دن کے درمیانی حصے میں 15 سے 30 منٹ تک بازو، چہرہ اور ٹانگیں دھوپ میں رکھنا کافی سمجھا جاتا ہے۔ سانولی جلد والوں کو کچھ زیادہ وقت لگتا ہے۔ گرمیوں کی سخت دوپہر میں جلد جلنے اور لو لگنے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے صبح دس بجے کے آس پاس یا سہ پہر کا وقت بہتر ہے۔ سردیوں میں دوپہر کی دھوپ آرام دہ ہوتی ہے۔

روزانہ کتنی ضرورت ہے

بالغ افراد کو عام طور پر 600 انٹرنیشنل یونٹ (15 مائیکروگرام) اور 70 سال سے زیادہ عمر میں 800 یونٹ روزانہ چاہیے۔ غذا سے یہ مقدار پوری کرنا مشکل ہے، اسی لیے دھوپ اہم ہے۔ کمی ثابت ہو جائے تو ڈاکٹر عام طور پر خون کے ٹیسٹ کے مطابق خاص مقدار کی گولیاں یا قطرے دیتے ہیں۔

زیادتی کا نقصان

وٹامن D چکنائی میں حل ہو کر جسم میں جمع ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کے بغیر بڑی مقدار کے ٹیکے یا ہفتہ وار بڑی گولیاں مہینوں لیتے رہنے سے خون میں کیلشیم بڑھ سکتا ہے، جس سے متلی، کمزوری، پیاس، بار بار پیشاب اور گردوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ دھوپ سے بننے والا وٹامن D اس طرح زیادہ نہیں ہوتا۔

ایک دن کا سادہ نمونہ

یہ صرف ایک مثال ہے کہ عام گھریلو کھانوں سے یہ ضرورت کیسے پوری کی جا سکتی ہے۔ اپنی صحت، بیماری اور مزاج کے مطابق اس میں تبدیلی کریں۔

وقتکیا کھائیں
ناشتہانڈے کی زردی اور دودھ
دوپہردوپہر کے آس پاس 15 سے 30 منٹ دھوپ
شامدودھ یا دہی
راتہفتے میں ایک دو بار مچھلی

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا ہڈیوں کا ہر درد وٹامن D کی کمی ہے؟

نہیں۔ جوڑوں کی گھسائی، چوٹ، یورک ایسڈ اور دوسری بیماریوں میں بھی درد ہوتا ہے۔ ٹیسٹ سے کمی ثابت ہو تب ہی علاج کریں۔

کیا انڈے اور دودھ سے وٹامن D پورا ہو سکتا ہے؟

ان سے کچھ مقدار ملتی ہے لیکن عام طور پر پوری ضرورت نہیں۔ روزانہ کچھ دیر دھوپ لینا سب سے آسان ذریعہ ہے۔

وٹامن D کا ٹیسٹ کب کروائیں؟

جب ہڈیوں اور پٹھوں میں مسلسل درد اور کمزوری ہو، بار بار ہڈی ٹوٹے، یا ڈاکٹر مشورہ دیں۔ ٹیسٹ کا نام عام طور پر 25-OH Vitamin D ہوتا ہے۔

ضروری نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات اور تعلیم کے لیے ہے، کسی ڈاکٹر یا مستند حکیم کے مشورے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی غذا، نسخہ یا علاج شروع کرنے سے پہلے، خاص طور پر حمل، دودھ پلانے، بچوں، شوگر، بلڈ پریشر، دل یا گردے کی بیماری کی صورت میں، اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
اپنے مزاج کی تشخیص کریں