🏠 Home › 📚 Articles › پروٹین کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں

پروٹین کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں

My Herbal PK · 28 اکتوبر 2026

پروٹین جسم کے لیے ایک ضروری غذائی جزو ہے۔ اس مضمون میں اس کی کمی کی عام علامات، اسے پورا کرنے والی غذائیں اور انہیں کھانے کا درست طریقہ دیا گیا ہے۔

پٹھوں، جلد اور جسم کے خلیات کی تعمیر و مرمت کے لیے ضروری ہے۔

کمی کی علامات

کن غذاؤں میں ملتا ہے

غذاقانونِ مفرد اعضاء میں گروپ
انڈے—
دالیں—
مرغی کا گوشت—
دودھ/دہیاعصابی، عضلاتی
چنےعضلاتی
مچھلیعضلاتی

گروپ حکیم صابر رحمۃ اللہ علیہ کی غذائی فہرستوں سے لیا گیا ہے۔ جو غذا ان فہرستوں میں نہیں، اس کے سامنے «—» ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء میں علاج کی غذا مزاج کے اگلے عضو کی ہوتی ہے: اعصابی مزاج میں عضلاتی غذائیں، عضلاتی مزاج میں غدی غذائیں اور غدی مزاج میں اعصابی غذائیں۔

کھانے کا درست طریقہ

دال کو چاول یا روٹی کے ساتھ ملا کر کھانے سے مکمل پروٹین (تمام ضروری امائنو ایسڈز) ملتا ہے — خاص طور پر سبزی خور افراد کے لیے یہ اہم ہے۔

کب ڈاکٹر سے ملیں

یہ علامات کئی دوسری بیماریوں میں بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات دیکھ کر کمی پکی نہیں سمجھنی چاہیے۔ علامات زیادہ دن رہیں یا بڑھتی جائیں تو ڈاکٹر سے ملیں اور خون کا ٹیسٹ کروائیں۔ سپلیمنٹ (گولیاں یا ٹیکے) ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ لیں، کیونکہ کچھ وٹامنز اور معدنیات زیادہ مقدار میں نقصان بھی دیتے ہیں۔

اپنی علامات کے مطابق اندازہ لگانے کے لیے My Herbal PK کا وٹامن و معدنیات کی کمی والا حصہ استعمال کریں۔

جسم میں پروٹین کا کام

پروٹین جسم کی «اینٹیں» ہیں۔ پٹھے، جلد، بال، ناخن، خون کے خلیات، ہارمون، ہاضمے کے انزائمز اور بیماریوں سے لڑنے والی اینٹی باڈیز سب پروٹین سے بنتے ہیں۔ جسم میں روزانہ پرانے خلیات ٹوٹتے اور نئے بنتے ہیں، اس لیے پروٹین کی ضرورت ہر روز رہتی ہے۔ پروٹین چھوٹے حصوں (امائنو ایسڈز) سے مل کر بنتا ہے۔ کچھ امائنو ایسڈ جسم خود نہیں بنا سکتا، انہیں غذا سے لینا ضروری ہے۔

کمی کیوں ہوتی ہے

روزانہ کتنی ضرورت ہے

ایک عام صحت مند بالغ کو اپنے وزن کے ہر کلو کے حساب سے تقریباً 0.8 گرام پروٹین روزانہ چاہیے۔ مثلاً 60 کلو وزن والے شخص کو تقریباً 48 گرام۔ حمل، دودھ پلانے، بڑھاپے، ورزش اور بیماری سے صحت یابی کے دوران ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔

غذا (تقریباً)پروٹین
ایک انڈا6 گرام
ایک پیالی پکی ہوئی دال12 سے 18 گرام
ایک گلاس دودھ8 گرام
ایک پیالی دہی8 سے 10 گرام
100 گرام پکا ہوا مرغی کا گوشت25 سے 30 گرام
ایک مٹھی بھنے چنے6 سے 8 گرام

سبزی خور افراد کے لیے

دال اور چاول، یا دال اور روٹی ملا کر کھانے سے وہ امائنو ایسڈ پورے ہو جاتے ہیں جو اکیلی دال یا اکیلے اناج میں کم ہوتے ہیں۔ دودھ، دہی، پنیر، چنے اور مونگ پھلی بھی شامل کریں۔

زیادتی کا نقصان

صحت مند لوگوں میں غذا سے ملنے والا پروٹین عام طور پر محفوظ ہے۔ لیکن گردے کے مریضوں کو پروٹین کی مقدار ڈاکٹر کے مشورے سے محدود رکھنی پڑتی ہے۔ ورزش کرنے والے پروٹین پاؤڈر بغیر ضرورت اور بغیر مشورے کے زیادہ استعمال نہ کریں۔

پاؤں کی سوجن کب تشویش کی بات ہے

شدید پروٹین کی کمی میں پاؤں اور ٹانگوں پر سوجن آ سکتی ہے، لیکن سوجن دل، گردے، جگر اور رگوں کی بیماریوں میں بھی ہوتی ہے۔ پاؤں کی سوجن کو صرف غذا کی کمی نہ سمجھیں، ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔

ایک دن کا سادہ نمونہ

یہ صرف ایک مثال ہے کہ عام گھریلو کھانوں سے یہ ضرورت کیسے پوری کی جا سکتی ہے۔ اپنی صحت، بیماری اور مزاج کے مطابق اس میں تبدیلی کریں۔

وقتکیا کھائیں
ناشتہدو ابلے انڈے یا دہی کے ساتھ روٹی
دوپہردال اور چاول، ساتھ ایک پیالی دہی
شامبھنے چنے یا ایک گلاس دودھ
راتمرغی یا مچھلی کا سالن، یا سبزی خور افراد کے لیے چنے اور پنیر

بزرگوں کے لیے

عمر کے ساتھ پٹھے کمزور ہوتے ہیں، اور کم پروٹین یہ عمل تیز کر دیتا ہے۔ جن بزرگوں کو گوشت چبانے میں مشکل ہو وہ دال، انڈا، دہی، دلیہ، یخنی اور نرم پکا قیمہ لیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا روزانہ انڈا کھانا ٹھیک ہے؟

زیادہ تر صحت مند لوگوں کے لیے روزانہ ایک انڈا مناسب ہے۔ دل یا کولیسٹرول کے مریض اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں۔

سبزی خور کو مکمل پروٹین کیسے ملے؟

دال کو روٹی یا چاول کے ساتھ، اور دودھ، دہی، پنیر، چنے اور مونگ پھلی ملا کر کھائیں۔

کیا پروٹین پاؤڈر ضروری ہے؟

عام لوگوں کو نہیں۔ عام غذا سے ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔

ضروری نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات اور تعلیم کے لیے ہے، کسی ڈاکٹر یا مستند حکیم کے مشورے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی غذا، نسخہ یا علاج شروع کرنے سے پہلے، خاص طور پر حمل، دودھ پلانے، بچوں، شوگر، بلڈ پریشر، دل یا گردے کی بیماری کی صورت میں، اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
اپنے مزاج کی تشخیص کریں