🏠 Home › 📚 Articles › میگنیشیم کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں

میگنیشیم کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں

My Herbal PK · 28 اکتوبر 2026

میگنیشیم جسم کے لیے ایک ضروری غذائی جزو ہے۔ اس مضمون میں اس کی کمی کی عام علامات، اسے پورا کرنے والی غذائیں اور انہیں کھانے کا درست طریقہ دیا گیا ہے۔

پٹھوں، اعصاب اور دل کی دھڑکن کو درست رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

کمی کی علامات

کن غذاؤں میں ملتا ہے

غذاقانونِ مفرد اعضاء میں گروپ
باداماعصابی
کیلاغدی
پالکعضلاتی، غدی
دالیں—
مونگ پھلی—

گروپ حکیم صابر رحمۃ اللہ علیہ کی غذائی فہرستوں سے لیا گیا ہے۔ جو غذا ان فہرستوں میں نہیں، اس کے سامنے «—» ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء میں علاج کی غذا مزاج کے اگلے عضو کی ہوتی ہے: اعصابی مزاج میں عضلاتی غذائیں، عضلاتی مزاج میں غدی غذائیں اور غدی مزاج میں اعصابی غذائیں۔

کھانے کا درست طریقہ

زیادہ چائے، کافی یا نمک والی غذائیں میگنیشیم کے جذب کو کم کر سکتی ہیں — اعتدال میں رکھیں۔

کب ڈاکٹر سے ملیں

یہ علامات کئی دوسری بیماریوں میں بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات دیکھ کر کمی پکی نہیں سمجھنی چاہیے۔ علامات زیادہ دن رہیں یا بڑھتی جائیں تو ڈاکٹر سے ملیں اور خون کا ٹیسٹ کروائیں۔ سپلیمنٹ (گولیاں یا ٹیکے) ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ لیں، کیونکہ کچھ وٹامنز اور معدنیات زیادہ مقدار میں نقصان بھی دیتے ہیں۔

اپنی علامات کے مطابق اندازہ لگانے کے لیے My Herbal PK کا وٹامن و معدنیات کی کمی والا حصہ استعمال کریں۔

جسم میں میگنیشیم کا کام

میگنیشیم جسم کے سینکڑوں کیمیائی عمل میں مدد دیتا ہے۔ یہ غذا سے توانائی بنانے، پٹھوں کے سکڑنے کے بعد ڈھیلا ہونے، اعصاب کو پرسکون رکھنے، دل کی دھڑکن کو باقاعدہ رکھنے اور خون میں شوگر اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کام آتا ہے۔ تقریباً آدھا میگنیشیم ہڈیوں میں ہوتا ہے۔ اس کی کمی میں پٹھے آسانی سے کھنچتے ہیں، نیند خراب ہوتی ہے، بے چینی رہتی ہے اور بعض اوقات دل کی دھڑکن بے ترتیب محسوس ہوتی ہے۔

کمی کیوں ہوتی ہے

روزانہ کتنی ضرورت ہے

بالغ مرد کو تقریباً 400 سے 420 ملی گرام اور عورت کو تقریباً 310 سے 320 ملی گرام روزانہ چاہیے۔ دالیں، چنے، بادام، مونگ پھلی، کیلا، پالک اور چوکر والا آٹا اچھے ذرائع ہیں۔ چکی کا آٹا (چوکر سمیت) میدے سے کہیں زیادہ میگنیشیم دیتا ہے۔

زیادتی کا نقصان

غذا سے زیادتی نہیں ہوتی کیونکہ صحت مند گردے اضافی مقدار نکال دیتے ہیں۔ لیکن میگنیشیم کی گولیاں یا کچھ جلاب اور تیزابیت کی دوائیں زیادہ لینے سے دست لگ سکتے ہیں۔ گردے کے مریضوں میں میگنیشیم جمع ہو کر خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے وہ ڈاکٹر کے بغیر کوئی سپلیمنٹ نہ لیں۔

روزمرہ کھانے میں آسان طریقے

نیند اور میگنیشیم

کمی ہو تو نیند اور پٹھوں کا کھنچاؤ بہتر ہو سکتا ہے، لیکن بے خوابی کی وجوہات بہت سی ہیں، جیسے پریشانی، رات دیر تک موبائل، چائے اور درد۔ صرف میگنیشیم کو حل نہ سمجھیں۔

ایک دن کا سادہ نمونہ

یہ صرف ایک مثال ہے کہ عام گھریلو کھانوں سے یہ ضرورت کیسے پوری کی جا سکتی ہے۔ اپنی صحت، بیماری اور مزاج کے مطابق اس میں تبدیلی کریں۔

وقتکیا کھائیں
ناشتہدلیہ یا چوکر والی روٹی کے ساتھ دودھ
دوپہرمسور یا ماش کی دال اور پالک
شاممٹھی بھر بھنے چنے یا مونگ پھلی، اور ایک کیلا
راتسبزی کے ساتھ چکی کی روٹی، اور چند بادام

ذہنی دباؤ اور میگنیشیم

مسلسل ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی میں جسم کی ضرورتیں بڑھ جاتی ہیں۔ متوازن غذا کے ساتھ روزانہ چہل قدمی، نماز اور وقت پر سونا ذہنی سکون کے لیے اتنے ہی ضروری ہیں جتنی کوئی گولی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا رات کو ٹانگوں کا کھنچنا میگنیشیم کی کمی ہے؟

ہو سکتا ہے، لیکن پانی کی کمی، زیادہ مشقت اور کچھ دوائیں بھی وجہ ہوتی ہیں۔ بار بار ہو تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔

شوگر کے مریضوں کے لیے میگنیشیم کیوں اہم ہے؟

بے قابو شوگر میں یہ پیشاب سے زیادہ نکلتا ہے، اور اس کی کمی شوگر کو قابو میں رکھنا مزید مشکل بنا سکتی ہے۔

میگنیشیم کی گولیاں کون نہ لے؟

گردے کے مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بالکل نہ لیں۔

کیا کیلا میگنیشیم کا اچھا ذریعہ ہے؟

کیلے میں کچھ میگنیشیم اور زیادہ پوٹاشیم ہوتا ہے۔ دالیں، بادام، چنے اور چوکر والا آٹا زیادہ میگنیشیم دیتے ہیں۔

ضروری نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات اور تعلیم کے لیے ہے، کسی ڈاکٹر یا مستند حکیم کے مشورے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی غذا، نسخہ یا علاج شروع کرنے سے پہلے، خاص طور پر حمل، دودھ پلانے، بچوں، شوگر، بلڈ پریشر، دل یا گردے کی بیماری کی صورت میں، اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
اپنے مزاج کی تشخیص کریں