🏠 Home › 📚 Articles › آئرن کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں

آئرن کی کمی: علامات، وجوہات اور غذائیں

My Herbal PK · 28 اکتوبر 2026

آئرن (فولاد) جسم کے لیے ایک ضروری غذائی جزو ہے۔ اس مضمون میں اس کی کمی کی عام علامات، اسے پورا کرنے والی غذائیں اور انہیں کھانے کا درست طریقہ دیا گیا ہے۔

خون میں آکسیجن لے جانے والے سرخ خلیات (ہیموگلوبن) بنانے کے لیے ضروری ہے۔

کمی کی علامات

کن غذاؤں میں ملتا ہے

غذاقانونِ مفرد اعضاء میں گروپ
پالکعضلاتی، غدی
گڑ—
چھوہارےعضلاتی
انارعضلاتی
گوشت (جگر)—
چقندراعصابی

گروپ حکیم صابر رحمۃ اللہ علیہ کی غذائی فہرستوں سے لیا گیا ہے۔ جو غذا ان فہرستوں میں نہیں، اس کے سامنے «—» ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء میں علاج کی غذا مزاج کے اگلے عضو کی ہوتی ہے: اعصابی مزاج میں عضلاتی غذائیں، عضلاتی مزاج میں غدی غذائیں اور غدی مزاج میں اعصابی غذائیں۔

کھانے کا درست طریقہ

سبزیوں (پالک، چقندر وغیرہ) سے ملنے والا آئرن جسم مشکل سے جذب کرتا ہے — اسی کھانے کے ساتھ لیموں، مالٹا/کینو، امرود یا کوئی بھی کھٹی چیز ضرور کھائیں، ورنہ آئرن کی کمی پوری نہیں ہوگی۔ کھانے کے فوراً بعد چائے نہ پئیں کیونکہ یہ آئرن کے جذب کو کم کر دیتی ہے۔

کب ڈاکٹر سے ملیں

یہ علامات کئی دوسری بیماریوں میں بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف علامات دیکھ کر کمی پکی نہیں سمجھنی چاہیے۔ علامات زیادہ دن رہیں یا بڑھتی جائیں تو ڈاکٹر سے ملیں اور خون کا ٹیسٹ کروائیں۔ سپلیمنٹ (گولیاں یا ٹیکے) ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ لیں، کیونکہ کچھ وٹامنز اور معدنیات زیادہ مقدار میں نقصان بھی دیتے ہیں۔

اپنی علامات کے مطابق اندازہ لگانے کے لیے My Herbal PK کا وٹامن و معدنیات کی کمی والا حصہ استعمال کریں۔

جسم میں آئرن کا کام

آئرن خون کے سرخ خلیات میں موجود «ہیموگلوبن» کا بنیادی جزو ہے۔ ہیموگلوبن پھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر پورے جسم تک پہنچاتا ہے۔ آئرن کم ہو تو ہیموگلوبن کم بنتا ہے، جسے «خون کی کمی» (انیمیا) کہتے ہیں۔ پھر دل اور پھیپھڑوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، اسی لیے تھکاوٹ، سانس پھولنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا اور چکر آنا عام علامات ہیں۔ آئرن دماغ کی نشوونما، پٹھوں اور مدافعتی نظام کے لیے بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں خواتین اور بچوں میں خون کی کمی بہت عام ہے۔

کمی کیوں ہوتی ہے

بڑوں میں، خاص طور پر مردوں اور بزرگوں میں، اگر بغیر کسی واضح وجہ کے آئرن کی کمی ہو تو ڈاکٹر معدے اور آنتوں سے خون ضائع ہونے کی وجہ بھی تلاش کرتے ہیں۔ اس لیے صرف گولیاں کھا کر مطمئن نہ ہو جائیں۔

روزانہ کتنی ضرورت ہے

بالغ مرد کو تقریباً 8 ملی گرام، اور حیض والی عمر کی عورت کو تقریباً 18 ملی گرام روزانہ چاہیے۔ حمل میں یہ ضرورت 27 ملی گرام تک بڑھ جاتی ہے، اسی لیے حاملہ خواتین کو ڈاکٹر عام طور پر آئرن کی گولیاں دیتے ہیں۔

جذب بہتر کرنے کے طریقے

زیادتی کا نقصان

آئرن کی گولیاں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں: بچوں میں زیادہ گولیاں کھا لینا زہریلا اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹ کے بغیر لمبے عرصے تک گولیاں لینے سے بعض لوگوں میں جسم میں آئرن جمع ہو کر جگر اور دل کو نقصان دے سکتا ہے۔ گولیوں سے قبض اور پاخانے کا رنگ سیاہ ہونا عام ہے۔

ایک دن کا سادہ نمونہ

یہ صرف ایک مثال ہے کہ عام گھریلو کھانوں سے یہ ضرورت کیسے پوری کی جا سکتی ہے۔ اپنی صحت، بیماری اور مزاج کے مطابق اس میں تبدیلی کریں۔

وقتکیا کھائیں
ناشتہانڈا، چکی کی روٹی اور ساتھ ایک کینو
دوپہرکالے چنے یا دال، پالک، اور ٹماٹر لیموں کا سلاد
شامچند چھوہارے اور ایک امرود
راتکلیجی یا گوشت کا سالن، چائے کھانے کے ایک گھنٹے بعد

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

خون کی کمی کا ٹیسٹ کون سا ہے؟

عام طور پر CBC (ہیموگلوبن) اور آئرن کے ذخیرے کے لیے Ferritin کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے کروائیں۔

کیا گڑ اور چقندر سے خون کی کمی پوری ہو جاتی ہے؟

ان میں کچھ آئرن ہوتا ہے، لیکن شدید کمی میں عام طور پر دوا کی ضرورت پڑتی ہے۔ ساتھ میں وجہ تلاش کرنا بھی ضروری ہے۔

مٹی یا برف کھانے کو دل کیوں چاہتا ہے؟

اسے «پائیکا» کہتے ہیں اور یہ اکثر آئرن کی کمی کی نشانی ہوتی ہے۔ ٹیسٹ کروائیں۔

ضروری نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات اور تعلیم کے لیے ہے، کسی ڈاکٹر یا مستند حکیم کے مشورے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی غذا، نسخہ یا علاج شروع کرنے سے پہلے، خاص طور پر حمل، دودھ پلانے، بچوں، شوگر، بلڈ پریشر، دل یا گردے کی بیماری کی صورت میں، اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
اپنے مزاج کی تشخیص کریں