صحت مند رہنے کے لیے کھانے کے سنہری اصول — قانونِ مفرد اعضاء
قانونِ مفرد اعضاء میں دوا سے زیادہ غذا اور پرہیز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ کوئی بھی مزاج ہو، یہ چند بنیادی اصول ہر ایک کے لیے ہیں، اور My Herbal PK کے غذائی چارٹ کے شروع میں بھی یہی لکھے ہیں۔
1. روٹی آدھی کھائیں
جتنی روٹی عام طور پر کھاتے ہیں، اس کی آدھی کھائیں۔ پیٹ کو ہلکا رکھنا اس نظام کی بنیادی ہدایت ہے۔
2. پانی کھانے سے پہلے اور بعد میں
پانی کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے اور کھانے کے دو گھنٹے بعد پیئیں۔ کھانے کے دوران اور فوراً بعد زیادہ پانی پینے سے پرہیز کریں۔
3. صرف بھوک لگنے پر کھائیں
کھانا وقت دیکھ کر نہیں بلکہ بھوک لگنے پر کھائیں۔ بغیر بھوک کے کھانا معدے پر بوجھ بنتا ہے۔
4. دو کھانوں کے درمیان کم از کم چھ گھنٹے
ایک غذا کے بعد دوسری غذا کم از کم چھ گھنٹے بعد لیں، تاکہ پہلی غذا ہضم ہو جائے۔
5. مزاج کے مطابق علاج والی غذا
اس نظام میں غذا مزاج کے اگلے عضو کی لی جاتی ہے:
- اعصابی مزاج میں عضلاتی غذائیں
- عضلاتی مزاج میں غدی غذائیں
- غدی مزاج میں اعصابی غذائیں
6. پرہیز اور نماز
حکیم صابر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: «جو مریض دوائی تو کھاتے ہیں مگر پرہیز نہیں کرتے، وہ اپنے معالج کی قابلیت کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔ نماز کا اہتمام کریں، نماز میں شفاء ہے۔»
یہ اصول کیوں اہم ہیں
طب کی تقریباً ہر روایت میں کہا گیا ہے کہ زیادہ بیماریاں معدے سے شروع ہوتی ہیں۔ جب ہم بھوک سے زیادہ کھاتے ہیں یا پچھلا کھانا ہضم ہونے سے پہلے نیا کھانا ڈال دیتے ہیں تو ہاضمہ بوجھل ہو جاتا ہے، گیس، تیزابیت اور قبض پیدا ہوتے ہیں، اور وقت کے ساتھ وزن بھی بڑھتا ہے۔ حکیم صابر رحمۃ اللہ علیہ کے بتائے ہوئے یہ اصول اسی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ہیں۔ جدید غذائی ماہرین بھی کم کھانے، آہستہ کھانے اور کھانوں کے بیچ وقفہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ایک دن کا نمونہ
| وقت | کیا کریں |
|---|---|
| صبح اٹھ کر | ایک دو گلاس سادہ پانی |
| ناشتے سے آدھا گھنٹہ پہلے | پانی پی لیں |
| ناشتہ (بھوک لگنے پر) | علاج والے غذائی چارٹ کا ناشتہ، روٹی آدھی |
| ناشتے کے دو گھنٹے بعد | پانی |
| کم از کم چھ گھنٹے بعد | دوپہر کا کھانا، پھر قہوہ |
| شام / رات | ہلکا کھانا، سونے سے دو تین گھنٹے پہلے |
آہستہ اور چبا کر کھائیں
ہاضمہ منہ سے شروع ہوتا ہے۔ نوالہ اچھی طرح چبانے سے لعاب کھانے میں ملتا ہے اور معدے کا کام آسان ہوتا ہے۔ جلدی جلدی کھانے سے پیٹ بھرنے کا احساس دیر سے ہوتا ہے اور انسان ضرورت سے زیادہ کھا لیتا ہے۔ کھانے کے دوران موبائل اور ٹی وی سے بھی یہی مسئلہ ہوتا ہے۔
رات کا کھانا
رات کا کھانا ہلکا رکھیں اور سونے سے کم از کم دو تین گھنٹے پہلے کھائیں۔ پیٹ بھر کر فوراً لیٹنے سے تیزابیت اور سینے کی جلن بڑھتی ہے، اور نیند بھی خراب ہوتی ہے۔ کھانے کے بعد تھوڑی دیر چہل قدمی مفید ہے۔
جسمانی محنت اور نیند
غذا کے ساتھ جسمانی حرکت بھی ضروری ہے۔ روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ پیدل چلنا ہاضمہ، شوگر، بلڈ پریشر اور وزن سب کے لیے فائدہ مند ہے۔ رات کو جلدی سونا اور پوری نیند لینا بھی صحت کا حصہ ہے۔
کن لوگوں کو ان اصولوں میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے
- شوگر کے مریض: خاص طور پر انسولین یا شوگر کم کرنے والی گولیاں لینے والے لمبا وقفہ رکھیں تو شوگر بہت کم ہو سکتی ہے۔ کھانے کے اوقات اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے رکھیں۔
- حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین: انہیں زیادہ غذا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے، روٹی آدھی کرنا ان کے لیے مناسب نہیں۔
- بچے اور نوجوان: بڑھتی عمر میں پوری غذا ضروری ہے۔
- گردے کی پتھری والے اور گرمیوں میں محنت کرنے والے: پانی زیادہ پینا ضروری ہے۔
شادی بیاہ اور دعوتیں
دعوتوں میں کئی سالن، بریانی، میٹھا اور کولڈ ڈرنک ایک ساتھ ہوتے ہیں، اور یہی وہ موقع ہے جب اصول سب سے زیادہ ٹوٹتے ہیں۔ ایسے موقع پر پلیٹ میں ایک یا دو چیزیں لیں، روٹی یا چاول آدھے رکھیں، سلاد زیادہ لیں، اور میٹھا تھوڑا سا چکھ لیں۔ کھانے کے ساتھ کولڈ ڈرنک کی جگہ کچھ دیر بعد سادہ پانی پیئیں۔ اگلے دن کا کھانا ہلکا رکھیں تاکہ معدے کو آرام مل سکے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کھانے کے دوران پانی کیوں نہ پیئیں؟
اس نظام کے مطابق کھانے کے دوران زیادہ پانی ہاضمے کو کمزور کرتا ہے، اس لیے کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے اور دو گھنٹے بعد پینے کی ہدایت ہے۔ ضرورت ہو تو چند گھونٹ پینے میں حرج نہیں۔
دن میں کتنی بار کھانا چاہیے؟
اس اصول کے مطابق بھوک لگنے پر، اور دو کھانوں کے بیچ کم از کم چھ گھنٹے۔ عام طور پر یہ دن میں دو سے تین بار بنتا ہے۔
کیا یہ اصول شوگر کے مریضوں کے لیے بھی ہیں؟
شوگر کی دوا لینے والے اپنے کھانے کے اوقات ڈاکٹر کے مشورے سے رکھیں، ورنہ شوگر کم ہونے کا خطرہ ہے۔